World
کانگو میں ایبولا کی خطرناک ترین وباء، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جمہوری جمہوریہ کانگو میں جاری ایبولا کی وباء تاریخ کی بدترین وباء بن چکی ہے۔ اس خطرناک وائرس کی وجہ سے اب تک 1587 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن کے علاج کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وباء اس خطے کی تاریخ کی سب سے بدترین اور خطرناک ترین وباء ثابت ہو رہی ہے۔ اس خطرناک مرض نے ایک بار پھر انسانی جانوں کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں اور مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ عالمی طبی اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایبولا کی اس موجودہ قسم کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر 1587 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ طبی ماہرین کے لیے یہ صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہے کیونکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا موثر علاج مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو مریضوں کے علاج میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی طبی تنظیمیں اس وباء پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ مقامی سطح پر بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو اس موذی مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ ماہرین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کانگو کی حکومت کو فوری طبی اور مالی امداد فراہم کرے۔