LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ جنگ اور سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں تنازعہ بڑھنے کے ساتھ ہی سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو سکیورٹی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستانی فوج نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے غیر مشروط وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے دائرہ کار میں مسلسل وسعت آ رہی ہے جس کے باعث خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔ اس بدلتی ہوئی اور کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب کا نیا دفاعی معاہدہ ایک بڑے امتحان سے دوچار ہو سکتا ہے کیونکہ خطے کے اندرونی اور بیرونی خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حوثی حملوں اور دیگر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات پر عالمی اور علاقائی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور دفاعی حکمت عملیوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی غیر متزلزل اور غیر مشروط حمایت کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے حالیہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی سلامتی کے ساتھ پاکستان کا رشتہ اور عزم غیر مشروط ہے اور مملکت کی جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ یہ بیانات اور دفاعی وعدے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں حوثی ملیشیا کی جانب سے ہونے والے حملوں اور جارحانہ کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ سعودی عرب کی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ان کوششوں نے خلیجی ممالک کی سلامتی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی یہ جنگ خطے کے سیاسی اور عسکری توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین یہ مضبوط دفاعی وابستگی نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے خطے میں ایک طاقتور توازن قائم رکھنے میں بھی مدد ملے گی، اگرچہ اس اتحاد کو فی الوقت متعدد پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔