LIVE
Loading Breaking News...

ریاض پر حوثی میزائل حملہ، سعودی عرب یمن کشیدگی میں اضافہ

News Image
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور حساس تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ مختلف عالمی ذرائع ابلاغ نے ریاض ایئرپورٹ کے قریب دھواں اور شعلے دیکھنے کی تصدیق کی ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر ایک بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت ریاض کے علاوہ ینبع میں قائم سعودی آرامکو کی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے فوراً بعد ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے گہرے بادل اور شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حوثی تحریک کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہیں اور ان کا ہدف مملکت کے اہم اسٹریٹجک مقامات تھے۔ دوسری جانب سعودی حکام کی طرف سے اس حملے اور اس کے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سکیورٹی فورسز نے سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس حالیہ میزائل حملے نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک ایسے وقت میں ہوا دی ہے جب سفارتی سطح پر تنازع کے حل کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے کچھ شرائط سامنے آنے کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی برادری نے اس تازہ حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معصوم شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں مزید بدامنی کو روکا جا سکے۔