Business
پٹرول قیمت ایک ہزار روپے تک پہنچنے کا انتباہ، وزیر پیٹرولیم کا بیان
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی تو فی لیٹر قیمت ایک ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ کاروباری حلقوں اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ملکی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسا نیوز اردو) وفاقی وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق وزیر پیٹرولیم نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں کسی بھی قسم کی ایندھن یا پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ صورتحال کی خرابی اور ممکنہ قلت کے باعث پٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔دوسری جانب، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ایک رکن نے موجودہ حکومتی اقدامات اور سختیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اقتصادی کرفیو سے تشبیہ دی ہے۔ تجارتی برادری کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی کا طوفان برپا ہے اور اگر ایندھن کی قیمتوں میں مزید ہوشربا اضافہ ہوتا ہے تو صنعتوں کا پہیہ رک جائے گا اور عام آدمی کا جینا محال ہو جائے گا۔ معاشی ماہرین نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات نافذ کرے۔پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے صارفین کے لیے فی الحال کوئی ریلیف نظر نہیں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے اثرات براہ راست عام صارفین پر پڑ رہے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اس طرح کی وارننگز نے شہریوں اور کاروباری حلقوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔حکومت کی طرف سے تاحال اس بحران سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور پائیدار اقدامات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ عوام اور تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو سنگین معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں تاکہ پٹرول کی قیمتوں میں مزید ہوشربا اضافے کو روکا جا سکے اور ملک میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔