Politics
پاکستان میں احتجاجی تحریک اور دھرنے: حکومت کو یومیہ 120 ارب روپے نقصان کا خدشہ
حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں متوقع احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے پیشِ نظر سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سے معیشت کو یومیہ تقریبا 120 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے ان احتجاجی سرگرمیوں کو خود ساختہ معاشی نقصان قرار دیتے ہوئے تمام فریقین سے صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنے کی اپیل کی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں متوقع سیاسی احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک کو روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 120 ارب روپے یعنی چار سو ملین ڈالر تک کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک انتہائی نازک معاشی دور سے گزر رہا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اصلاحاتی پروگراموں پر عملدرآمد جاری ہے، طویل مارچ اور دھرنے ملکی معیشت کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر معاشی ٹیم کے ارکان نے اس ضمن میں کھل کر بات چیت کی اور ان احتجاجی مظاہروں کو 'خود ساختہ درد' سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں کی معطلی اور سپلائی چین میں رکاوٹیں براہِ راست صنعتی پیداوار، برآمدات اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ حکومت نے زور دیا ہے کہ ملکی معیشت پہلے ہی بحالی کے مشکل مراحل سے گزر رہی ہے اور اس قسم کے دھرنے اور احتجاج غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متزلزل کرتے ہیں۔
دوسری جانب ملک کے سیاسی منظر نامے پر بھی تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ دنوں میں سیاسی رہنماؤں بالخصوص پارٹی قیادت کے قریبی رشتہ داروں کی گرفتاریوں نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انتظامیہ نے ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے بڑے شہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں جبکہ اہم شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں کے گرد اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نہ صرف سیاسی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے براہِ راست اثرات ملک کے عامتہ الناس پر پڑ رہے ہیں۔
حکومتی ترجمان نے ایک بار پھر سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھیں اور ملکی معیشت کے مفاد میں احتجاج کے طریقوں پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح تیار ہیں، تاہم ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ ملک کو مزید کسی بھی معاشی اور انتظامی بحران سے بچایا جائے۔ تاجر برادری اور کاروباری حلقوں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔