World
مشرق وسطیٰ بحران: ایران کا امریکہ پر بمباری کی تیاری کا الزام
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خطے میں دوبارہ بمباری مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ تہران نے کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے دوران ایک بار پھر خطے میں بڑے پیمانے پر تشدد کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی حکام اور فوجی کمانڈ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قابل اعتماد اطلاعات ملی ہیں جن کے مطابق امریکہ ایک بار پھر خطے میں اپنے فضائی حملوں اور بمباری کی مہم کو دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس تازہ ترین پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور بین الاقوامی برادری خطے میں حالات مزید بگڑنے کے حوالے سے فکر مند دکھائی دیتی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی طرف سے کوئی بھی نیا فوجی اقدام کیا گیا تو ایران اس کا منہ توڑ اور بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں کے حملوں اور خطے میں دیگر محاذوں پر بھی لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے، جس سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی تیز ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو مشرق وسطیٰ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے فوری سفارتی رابطے بحال کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی بڑی انسانی اور عسکری catastrophe سے بچا جا سکے۔