Pakistan
سندھ کے کسانوں کا گندم اور گنے کی قیمتوں کے لیے نیا لائحہ عمل
سندھ کے کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور گنے کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر سرکاری سطح پر خریداری شروع کی جائے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافے کے باعث کسان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔
صوبہ سندھ میں زرعی شعبے سے وابستہ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور گنے کے مناسب نرخ فوری طور پر مقرر کیے جائیں تاکہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا صلہ مل سکے۔ کسان تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کے اس دور میں کھاد، بیج، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کی وجہ سے فصلوں کی پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کسان رہنماؤں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ وقت پر سرکاری سطح پر خریداری نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں کو اپنی فصلیں کم نرخوں پر آڑھتیوں اور مڈل مین کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں کسانوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اگلے سیزن کے لیے زمین تیار کرنے کے لیے سرمائے کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر گندم اور گنے کے سرکاری نرخوں کا اعلان کرے اور تمام اضلاع میں خریداری کے مراکز فعال بنائے جائیں۔
مظاہرین اور کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور کسانوں کے مسائل کا فوری حل نہ نکالا گیا تو وہ صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر کسان ہی خوشحال نہیں ہوگا تو ملک میں غذائی قلت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔