Business
چین یوان کی قدر میں محتاط اضافہ، امریکہ اور یورپ کے مطالبات پر ردعمل
امریکہ اور یورپ کی جانب سے تجارتی توازن کو بہتر بنانے کے مسلسل مطالبات کے باوجود چین نے اپنی کرنسی یوان کی قدر میں اضافے کی رفتار کو سست رکھا ہوا ہے۔ اس تمام صورتحال کے دوران آف شور یوان کی قدر میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
امریکہ اور یورپ کی جانب سے عالمی تجارت میں توازن پیدا کرنے کے شدید مطالبات کے باوجود چین نے اپنی کرنسی یوان کی قدر میں اضافے کے عمل کو انتہائی محتاط اور سست انداز میں آگے بڑھایا ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت یہ موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ بیجنگ حکام کس حکمت عملی کے تحت کرنسی کی قدر میں تبدیلی کے فیصلے کر رہے ہیں تاکہ ملکی برآمدات کو شدید دھچکا نہ لگے۔
دوسری جانب مالیاتی منڈیوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، آف شور یوان حالیہ دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں اپنی مضبوط ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔ روئٹرز اور دیگر مالیاتی اداروں کے تخمینوں کے مطابق پیپلز بینک آف چین (PBOC) کی جانب سے جاری کردہ ریفرنس ریٹس میں بھی یوان کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی ہے جو کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے اعلیٰ سطحی رابطوں اور ممکنہ ملاقاتوں کے تناظر میں کرنسی کی یہ حرکیات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ عالمی معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن اور برسلز کی طرف سے تجارتی عدم توازن پر قابو پانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس پر بیجنگ نپی تلی حکمت عملی کے تحت اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔