Business
روپے کی قدر میں معمولی اضافہ، غیر ملکی بینکوں کی ڈالر فروخت
کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے ڈالر کی طلب کے مقابلے میں غیر ملکی بینکوں کی جانب سے ڈالر کی فروخت دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں زر مبادلہ مارکیٹ میں مقامی کرنسی کی قدر میں معمولی بہتری واقع ہوئی ہے۔
بدھ کے روز زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مقامی کرنسی کی قدر میں اس وقت معمولی بہتری دیکھنے میں آئی جب غیر ملکی بینکوں کی جانب سے ڈالر کی فروخت نے کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے بڑھتی ہوئی طلب کو کسی حد تک متوازن کر دیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور سرمایہ کار مختلف معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں تجارتی اور کارپوریٹ سطح پر ڈالر کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا تھا جس سے مقامی کرنسی پر دباؤ بڑھ رہا تھا، تاہم بروقت غیر ملکی بینکوں کی مداخلت اور ڈالر کی فروخت نے اس دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرنسی مارکیٹ کا رخ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں، درآمدی بلوں اور دیگر مالیاتی جریانات پر منحصر ہوگا۔ اس کے علاوہ آئی پی او سے متعلق سرمایہ کاری کے بہاؤ اور پورٹ فولیو فنڈز کی آمدورفت بھی کرنسی کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ایشیائی خطے کی دیگر کرنسیوں کی طرح مقامی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں تاکہ عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ مرکزی بینک اور مالیاتی ادارے مارکیٹ کی حرکیات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح مبادلہ میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر برآمدات اور ترسیلات زر کی رفتار بہتر رہی تو روپے کی قدر میں استحکام کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں، جبکہ کسی بھی قسم کے بیرونی مالیاتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے مستعد ہیں۔