World
ارل اسپینسر کا ہیری اور میگن کے میڈیا ٹریٹمنٹ پر بیان
پرنس ہیری اور میگن مارکل کے برطانوی میڈیا میں ہونے والے منفی رویے پر شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ میڈیا کوریج بالکل ویسی ہی ہے جس کا سامنا ماضی میں شہزادی ڈیانا کو کرنا پڑا تھا۔
پرنس ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ برطانوی میڈیا کی جانب سے پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ہو بہو ان کی مرحومہ ہمشیرہ شہزادی ڈیانا کے تجربات سے مطابقت رکھتا ہے۔ ارل اسپینسر کے مطابق، شہزادی ڈیانا کو بھی اپنے دور میں میڈیا کی سخت ترین اور جارحانہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب کچھ ایسا ہی ماحول پرنس ہیری اور میگن کے اردگرد بھی پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور میڈیا کا یہ منفی رویہ دونوں کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ارل اسپینسر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان خدشات کا اظہار کیا کہ پرنس ہیری اور میگن مارکل کو اس قسم کے مسلسل دباؤ اور حملوں سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کس طرح ماضی میں میڈیا کی بے لگام مداخلت نے شہزادی ڈیانا کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا تھا اور اب یہی غیر صحت مند رجحان ڈیوک اور ڈচেس آف سسیکس کے معاملے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ناقدین اور میڈیا شخصیات کی طرف سے اس بیان پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں بعض حلقے ارل اسپینسر کے اس مؤقف کی بھرپور تائید کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔
پرنس ہیری نے ماضی میں بھی متعدد بار اس بات کا کھل کر اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ میگن مارکل کو اسی انجام سے بچانا چاہتے ہیں جس کا سامنا ان کی والدہ کو کرنا پڑا تھا۔ ہیری نے بارہا برطانوی پریس کی جارحانہ کوریج کو اپنی والدہ کی موت کا ایک بڑا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ارل اسپینسر کا یہ تازہ ترین بیان اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ آیا ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کو شاہی خاندان کے افراد کی نجی زندگی کے حوالے سے مزید ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے یا نہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے بیانات سے برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی معاملات اور میڈیا کے تعلقات پر ایک بار پھر سے سنجیدہ بحث کا آغاز ہو گیا ہے جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔