Technology
اے آئی اداکارہ ٹلی نور ووڈ کا لائیو انٹرویو اور تکنیکی خرابی
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اداکارہ ٹلی نور ووڈ نے پیئرز مورگن کے لائیو شو کے دوران اچانک کینٹونیز زبان بول کر ناظرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس انوکھے واقعے نے ہالی وڈ میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کے ممکنہ خطرات پر ایک بار پھر نئی بحث چھوٹی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات نے جہاں ایک طرف بے پناہ سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں دوسری طرف بعض اوقات یہ حیران کن اور پریشان کن بھی ثابت ہوتی ہے۔ حال ہی میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ورچوئل اداکارہ ٹلی نور ووڈ نے معروف میزبان پیئرز مورگن کے لائیو شو کے دوران اس وقت سب کو حیران کر دیا جب وہ انٹرویو کے دوران اچانک انگریزی چھوڑ کر کینٹونیز زبان میں بات کرنے لگیں۔ اس تکنیکی خرابی اور غیر متوقع واقعے نے شو کے ناظرین کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی بھی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جب پیئرز مورگن اس مصنوعی ذہانت کی حامل اداکارہ سے مختلف امور پر گفتگو کر رہے تھے تو عین انٹرویو کے دوران نظام میں ایک تکنیکی خرابی یا گلیچ پیدا ہوا۔ ٹلی نور ووڈ نے روانی سے کینٹونیز زبان میں جواب دینا شروع کر دیا جس پر میزبان بھی دنگ رہ گئے۔ کچھ دیر بعد خود کو سنبھالتے ہوئے اے آئی اداکارہ نے اعتراف کیا کہ ان سے تھوڑی سی گڑبڑ ہو گئی تھی۔ اس واقعے نے شو میں موجود افراد کو تو چونکایا ہی، ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا مستقبل میں تفریحی صنعت کا انحصار ایسے ورچوئل کرداروں پر ہونا چاہیے یا نہیں۔
اس واقعے کے بعد ہالی وڈ اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ورچوئل اداکاروں کی موجودگی حقیقی فنکاروں کی روزی روٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اور اس طرح کی تکنیکی خرابیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اے آئی ابھی تک انسانی تخلیقیت اور اعتبار کا مکمل نعم البدل نہیں بن سکی ہے۔ دوسری طرف حامیوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری لائی جائے گی۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت کتنی تیزی سے ہماری زندگیوں میں داخل ہو رہی ہے اور اس کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے غیر متوقع خطرات سے بھی نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ فلمی صنعت اور ناظرین اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کو کتنی پذیرائی بخشتے ہیں اور آیا اس طرح کے ورچوئل کردار روایتی اداکاروں کی جگہ لے پائیں گے یا نہیں۔