Health
نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور پریشانی میں اضافہ، آفیشل ریویو کا انکشاف
آفیشل ریویو کے سربراہ پروفیسر فوناگی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے دور میں جوان ہونا ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ نوجوانوں میں ذہنی تکلیف میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی کمزوری کا شکار نہیں بلکہ حقیقت میں کڑے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں ایک سرکاری جائزے کے سربراہ نے اس عام تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت نوجوان نسل کو کمزور یا زیادہ حساس قرار دیا جاتا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں پروفیسر فوناگی نے واضح کیا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور قلبی و دماغی مسائل میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ موجودہ دور کے انتہائی کڑے اور پیچیدہ حالات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی نوجوان نسل کو جن معاشی، سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے، وہ پچھلی نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہیں۔ پروفیسر فوناگی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں جوان ہونا اور عملی زندگی میں قدم رکھنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ بن چکا ہے، جہاں نوجوانوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جدید دور کی تیز رفتار زندگی، ڈیجیٹل دنیا کا دباؤ، مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور معاشی عدم استحکام نے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی تکلیف کوئی ذاتی کمزوری یا نازک مزاجی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان حقیقی اور سنگین مسائل کا عکاس ہے جن کا سامنا وہ روزمرہ کی زندگی میں کر رہے ہیں۔ اس جائزے کے نتائج طبی اور تعلیمی حلقوں میں بڑی بحث کا موضوع بن چکے ہیں، جہاں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔