Technology
امریکہ اور چین کے درمیان اے آئی سیفٹی پر اہم مذاکرات
امریکہ اور چین کے اعلیٰ حکام نے نیویارک میں اتوار کے روز مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے رہنماؤں کی متوقع سربراہی ملاقات سے پہلے منعقد کیے گئے۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تکنیکی سفارت کاری کا ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے جہاں اتوار کے روز نیویارک میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ ترین حکام کے مابین اہم ملاقات ہوئی۔ اس بیٹھک کا بنیادی مقصد آنے والے دنوں میں متوقع ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی سربراہی ملاقات سے قبل مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی حفاظت اور اس کے ممکنہ خطرات پر قابو پانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں دونوں سپر پاورز کے درمیان تعاون کی راہیں تلاش کرنا اس وقت دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں مصنوعی ذہانت سے جڑے ہوئے سکیورٹی خدشات اور انسانیت کو درپیش خطرات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ جدید ٹیکنالوجی بالخصوص اے آئی کے میدان میں دونوںممالک کی مسابقت طویل عرصے سے عالمی امن کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے، تاہم اب اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل دور کے ان نادیدہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ امریکی اور چینی نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اے آئی سسٹمز کی تیاری اور ان کے استعمال میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے تکنیکی بحران سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی محاذ پر کشیدگی کو کم کرنے میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی آنے والی ملاقات سے قبل ان ابتدائی مشاورتوں کو انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی امور پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، لیکن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حفاظتی تدابیر پر اتفاق رائے دنیا بھر کے لیے ایک خوش آئند پیغام ہے۔
آنے والے ہفتوں میں اس ملاقات کے اثرات عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کی مارکیٹ پر واضح طور پر نظر آئیں گے۔ نیویارک میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں رہنما اپنے آئندہ اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار سے متعلق کسی بڑے اور تاریخی سمجھوتڑے کا باضابطہ اعلان کر سکتے ہیں۔ عالمی مبصرین اس تمام صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اے آئی کا محفوظ استعمال اب مستقبل کی دنیا کا سب سے بڑا ایجنڈا بن چکا ہے۔