LIVE
Loading Breaking News...

ورلڈ کپ میں جنک فوڈ کے اشتہارات کا انکشاف

News Image
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ فٹبال یا کرکٹ کے عالمی کپ جیسے بڑے مقابلوں کے دوران شائقین کو بڑے پیمانے پر جنک فوڈ کے اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسلسل بمباری سے مداحوں بالخصوص کم عمر شائقین کی صحت پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ورلڈ کپ جیسے بڑے کھیلوں کے ایونٹس دنیا بھر میں کروڑوں شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں، جہاں کھیل کے ساتھ ساتھ تجارتی اشتہارات کا سیلاب بھی امڈ آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ایک تشویشناک رپورٹ کے مطابق، کھیلوں کے ان مقابلوں کے دوران شائقین کو جنک فوڈ کے لگ بھگ پینسٹھ ہزار اشتہارات دکھائے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل بمباری ناظرین بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے غیر صحت مند غذاؤں کے استعمال کا رجحان بڑھتا ہے۔ اس صورتحال نے طبی ماہرین اور فلاحی اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کھیل اور صحت کا گہرا تعلق ہونا چاہیے، لیکن کمرشل ازم کے اس دور میں کھیلوں کے بڑے پلیٹ فارمز کو ایسی مصنوعات کی ترویج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو موٹاپے، دل کی بیماریوں اور دیگر خطرناک طبی مسائل کا سبب بنتی ہیں۔ دنیا بھر میں سپورٹس ریگولیٹرز اور حکومتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کھیلوں کے دوران غیر صحت بخش اشیاء کے اشتہارات پر کڑے ضابطے نافذ کریں تاکہ مداحوں کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، اشتہاری کمپنیوں اور نشریاتی اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہارات کھیلوں کے ایونٹس کی مالی معاونت اور براڈکاسٹنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ تاہم، صحت عامہ کے حامیوں کا اصرار ہے کہ منافع کی اس دوڑ میں نوجوان نسل کی صحت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں اشتہارات کی نوعیت اور بالخصوص جنک فوڈ کی تشہیر پر بین الاقوامی سطح پر مزید سخت بحث اور لائحہ عمل سامنے آئے گا۔