World
اقوام متحدہ میں طاقت کا توازن، ویٹو پاور اور پانچ طاقتور ممالک
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر رکن ملک کو ووٹ کا حق حاصل ہے لیکن سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کو ویٹو پاور جیسی خصوصی طاقت حاصل ہے۔ یہ توازن دنیا کے اہم فیصلوں اور بین الاقوامی سیاست پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دنیا بھر کے ممالک کو یکساں نمائندگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے جہاں اصولاً ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس ہوں یا اہم قراردادیں، دنیا کا ہر چھوٹا بڑا ملک اپنی رائے کا اظہار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم جب عالمی سطح پر نفاذ اور حقیقی طاقت کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل اختیار چند مخصوص ہاتھوں میں مرکوز ہے۔
اس عالمی ادارے کے اندر پانچ ممالک ایسے ہیں جنہیں سلامتی کونسل میں وہ خصوصی اور منفرد اختیارات حاصل ہیں جو باقی ایک سو اٹھاسی ممالک کو حاصل نہیں۔ ان پانچ مستقل اراکین میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ انہیں تاریخی پس منظر اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عالمی ڈھانچے کے تحت یہ خصوصی مقام ملا، جس کی رو سے وہ کسی بھی اہم قرارداد یا فیصلے کو اکیلے مسترد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
ویٹو پاور یا حقِ تردید نامی اس طاقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر سلامتی کونسل کے چودہ ارکان بھی کسی قرارداد کے حق میں ووٹ دے دیں لیکن ان پانچ میں سے کوئی ایک ملک بھی اس کی مخالفت میں اپنا ویٹو استعمال کر لے تو وہ فیصلہ نافذ نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تنازعات، جنگ بندی کی کوششوں اور بین الاقوامی سلامتی کے معاملات میں اکثر انمٹ رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ طاقتور ممالک اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے اس نظام میں اصلاحات کے مطالبات کیے جا رہے ہیں تاکہ دنیا کی بدلتی ہوئی حقیقتوں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی اقوام متحدہ کے فیصلہ ساز اداروں میں مناسب جگہ دی جا سکے۔ ترقی پذیر ممالک اور عالمی برادری کا ایک بڑا طبقہ اس ڈھانچے کو غیر جمہوری قرار دیتا ہے، تاہم طاقت کے اس توازن میں تبدیلی لانا فی الحال ایک مشکل ترین سفارتی چیلنج بنا ہوا ہے۔