LIVE
Loading Breaking News...

ایران امریکہ تنازعہ: ایرانی فوج کا حملوں کی تیاری کا دعویٰ

News Image
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی بڑھاتے ہوئے دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ تہران نے کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے جبکہ قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کی فوجی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایرانی اہداف پر دوبارہ فضائی حملے کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن میں ممکنہ عسکری اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ تہران نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کا انتہائی سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا، جس سے مشرق وسطیٰ کا امن شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ خلیجی ریاست قطر اس صورتحال میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہی ہے۔ قطری رہنماؤں کا ماننا ہے کہ عسکری راستہ مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے خطے کے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری اس سرد جنگ کے اثرات عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عالمی برادری نے اس تمام صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ بحران کو سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے معاشی اور سیاسی نتائج تباہ کن ہوں گے۔ فی الحال تمام نظریں قطری دارالحکومت دوحہ میں جاری سفارتی رابطوں اور امریکہ کی آئندہ کی پالیسی پر مرکوز ہیں کہ آیا جنگ کے بادل چھٹتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔