Politics
عمران خان کی بہنیں لاہور میں حراست میں، اسلام آباد مارچ کی تیاریاں
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کو لاہور میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ سے قبل عمل میں آئی ہے۔
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے نکالے جانے والے مجوزہ احتجاجی مارچ سے قبل انتہائی اہم سیاسی ڈویلپمنٹ سامنے آئی ہے۔ عمران خان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تین بہنوں کو لاہور میں حراست میں لے لیا ہے۔ اس اقدام سے ملک بھر میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف ایک بڑا مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ قید سابق وزیر اعظم کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس مارچ کو ناکام بنانے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں لاہور میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس کی زد میں عمران خان کا خاندان بھی آ گیا ہے۔
پارٹی ذرائع اور خاندان کے افراد نے اس گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے اور حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس گرفتاری پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن شہر بھر میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
اس صورتحال کے بعد ملک بالخصوص جڑواں شہروں اور لاہور میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے اپنے تمام کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی دفعہ 144 کے نفاذ اور دیگر پابندیوں کے ذریعے اجتماعات کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ اپوزیشن پارٹی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔