LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی بہنیں ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی لاہور میں گرفتار

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی لاہور میں 30 روز کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے متوقع احتجاج اور مارچ سے قبل عمل میں لائی گئی ہے۔
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 30 روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ اہم کارروائی پارٹی کی جانب سے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال کے تناظر میں کی گئی ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز عمران خان کی ایک اور ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی ڈپٹی کمشنر لاہور کے احکامات کے تحت ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے ڈی سی آفس کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دونوں خواتین امن عامہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اور ان کی موجودگی سے قانون و ضوابط کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں بہنیں 9 نومبر کے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث تھیں اور انہوں نے کارکنان کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے اکسایا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنان کو دوبارہ متحرک کر رہی تھیں تاکہ حکومت اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کی جا سکے۔ انتظامیہ کے مطابق ان تمام خدشات کے پیش نظر پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت ان کی حراست کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور انہیں کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں دیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم اور چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے بیانات میں اسے سیاسی انتقام اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کے ہتھکنڈوں سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتی اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق پرامن طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔ پارٹی چیئرمین نے مزید کہا کہ ملک کو مزید محاذ آرائی کی نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پنجاب بھر میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کریک ڈاؤن جاری ہے جس کے دوران پی ٹی آئی کے کئی مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی اور عوامی سلامتی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں، وہیں پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ تمام کارروائیاں ان کے بنیادی آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہیں اور ان کا مقصد پرامن احتجاج کی آواز کو دبانا ہے۔