World
پاکستانی فضائی حملے: 28 عسکریت پسند ہلاک، طالبان کا دعویٰ
پاکستان نے پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اکیس عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ان حملوں میں تین شہریوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
اسلام آباد: پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاک افغان سرحدی علاقے میں کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں اٹھائیس عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملے انتہائی نپے تولے انداز میں کیے گئے جن کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا جو سرحد پار سے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و عسکری سطح پر رابطے جاری ہیں۔دوسری جانب افغانستان میں برسر اقتدار طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی حملوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ طالبان وزارت دفاع نے اس حوالے سے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کی زد میں آنے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ حالیہ فضائی حملے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا تسلسل ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے الزام عائد کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور کالعدم تنظیمیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتی ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان اس عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کو سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ خطے کے معاشی اور تجارتی مفادات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے بھی دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے باہمی رابطوں کو فروغ دیں۔