LIVE
Loading Breaking News...

روسی انتخابات میں پوتن کی جماعت کی فتح اور یوکرین جنگ کے اثرات

News Image
روس میں ہونے والے انتہائی سخت کنٹرولڈ پارلیمانی انتخابات میں صدر ولادیمیر پوتن کی حامی حکمراں پارٹی نے ریکارڈ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان انتخابات کے دوران یوکرین جنگ کے سائے اور اس کے ماسکو تک پہنچتے ہوئے اثرات نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
روس میں حال ہی میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں صدر ولادیمیر پوتن کی حامی حکمراں جماعت نے شاندار اور ریکارڈ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ ان انتخابات میں نتائج کے حوالے سے کوئی بڑی حیرت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ یہ عمل پہلے ہی سے انتہائی سخت کنٹرول اور نگرانی میں تھا، لیکن اس بار کی سیاسی سرگرمیوں کا تناظر کافی مختلف تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان انتخابات کے نتائج سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ کریملن ان نتائج کو کس طرح استعمال کرتا ہے اور ملک کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، یوکرین کے ساتھ جاری طویل جنگ نے اب ماسکو کے اندرونی حالات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ یوکرین کی طرف سے جنگ کے دائرہ کار کو بڑھائے جانے اور اس کے اثرات کے روس کے دارالحکومت تک پہنچنے نے ان انتخابات کو محض ایک سیاسی ڈرامے سے بڑھ کر ایک اہم ترین معرکہ بنا دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ووٹنگ کا عمل حکومتی کنٹرول میں تھا، تاہم یوکرین تنازع کے باعث عام عوام میں پائے جانے والے احساسات اور جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ نے اس انتخابی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کریملن اپنی اس نئی کامیابی اور پارلیمانی برتری کو جنگ کے اگلے مراحل اور ملک کے اندرونی استحکام کے لیے کس طرح بروئے کار لاتا ہے۔