LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد احتجاج: حکومت کا سخت لائحہ عمل اور داخلی راستے بند

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو 27 ستمبر کے احتجاج کی کال پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرتشدد گروہوں کو دارالحکومت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جڑواں شہروں میں ممکنہ دھرنوں اور طویل مارچز کے پیش نظر داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پرتشدد گروہ کو قانون ہاتھ میں لے کر دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 27 ستمبر کی احتجاجی کال پر شدید خبردار کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اس لائحہ عمل کو تبدیل کریں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور دارالحکومت کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی طرف سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے جہاں پارٹی رہنما جنید نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو اسلام آباد کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیاسی کشیدگی میں اضافے کے بعد جڑواں شہروں یعنی اسلام آباد اور راولپنڈی میں ممکنہ ہنگامہ آرائی اور طویل مارچز کے پیش نظر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے تمام اہم داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ چاروں طرف سے متوقع طویل مارچز اور دھرنوں کے باعث جڑواں شہروں میں کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ سیاسی جماعت اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ محاذ آرائی آنے والے دنوں میں مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے کیونکہ دونوں فریق اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔