World
امریکی ویزا بانڈ پروگرام مستقل، پچاس ممالک کے شہریوں پر اطلاق
امریکی محکمہ خارجہ نے پچاس ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بیس ہزار ڈالر تک کا بانڈ لیا جا سکتا ہے۔ یہ نیا ضابطہ تین اگست سے نافذ العمل ہوگا اور اس کا مقصد ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں رکنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک وفاقی نوٹس میں اعلان کیا ہے کہ وہ ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل کرنے جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت لگ بھگ پچاس ممالک کے شہریوں کو امریکہ کا سفر کرنے کے لیے بیس ہزار ڈالر تک کا ضمانتی بانڈ جمع کروانا پڑ سکتا ہے۔ ان ممالک میں سے اکثریت کا تعلق افریقی خطے سے ہے۔ یہ نیا قانون بی ون اور بی ٹو ویزا کے حاملین پر لاگو ہوگا جو کہ کاروباری اور سیاحتی مقاصد کے لیے امریکہ کا دورہ کرتے ہیں۔ وفاقی نوٹس کے مطابق، قونصلر افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ویزا جاری کرنے کی شرط کے طور پر مسافر سے بیس ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کریں۔ سنہ 2025 کے پائلٹ پروگرام کے تجربے کے بعد حکام نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ یہ اقدام ویزا قوانین کی پاسداری کروانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے، جس کی روشنی میں اسے مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پائلٹ پروگرام کے دوران یہ بانڈ پانچ ہزار، دس ہزار یا پندرہ ہزار ڈالر تک کا ہوتا تھا، تاہم نئے حتمی ضابطے میں پانچ ہزار ڈالر کے آپشن کو ختم کر کے زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھا کر بیس ہزار ڈالر کر دیا گیا ہے۔ یہ ضابطہ تین اگست کو وفاقی رجسٹر میں باضابطہ اشاعت کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ جن پچاس ممالک کے شہریوں کے لیے یہ ضابطہ بنایا گیا ہے ان میں تیس کا تعلق افریقی براعظم سے ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر رہتے ہیں۔ دوسری جانب، امیگریشن کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سخت شرط سے امریکہ کے جائز سفری امور بری طرح متاثر ہوں گے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے قانونی تارکین وطن کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور تعصب کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ان پالیسیوں کو ناگزیر قرار دے رہی ہے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے رجحان پر قابو پایا جا سکے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ویزا درخواست دہندگان کے لیے مزید سخت مالی اور انتظامی شرائط بھی عائد کی جا رہی ہیں۔