Technology
اے آئی تصاویر اور پرائیویسی: بومرز اور ملینئل والدین میں اختلاف
بزرگ نسل اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے آرٹ میں تبدیل کرنے کا شوق رکھتی ہے۔ دوسری طرف، ملینئل والدین اس عمل کو بچوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور سکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہونے والے مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز نے خاندانی سطح پر ایک انوکھا تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں بزرگ نسل یعنی بومرز اپنے پیارے بچوں اور پوتے پوتیوں کی تصاویر کو اے آئی کی مدد سے خوبصورت اور دلکش آرٹ میں تبدیل کرنے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہیں ان کے ملینئل بچے اس رجحان کو پرائیویسی کا ایک بھیانک خواب قرار دے رہے ہیں۔ اس تکنیکی خلیج نے خاندانوں کے اندر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کہاں تک محفوظ ہے۔
صارفین کی رپورٹس اور کاروباری تجزیوں کے مطابق، بہت سے بزرگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دستیاب مختلف اے آئی جنریٹرز کا استعمال کر کے اپنے چھوٹے بچوں کی تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں تاکہ ان کے منفر د پورٹریٹ بنا سکیں۔ وہ اسے محبت کا اظہار اور ایک خوبصورت یادگار سمجھتے ہیں۔ تاہم، وہ اس بات سے اکثر ناواقف ہوتے ہیں کہ ان تھرڈ پارٹی اے آئی ایپس کو بچوں کا ذاتی ڈیٹا، چہرے کے نقوش اور تصاویر فراہم کرنے سے کس قسم کے خطرات جنم لے سکتے ہیں، جن میں ڈیٹا کی چوری اور چہرے کی شناخت کے سسٹمز کا غلط استعمال شامل ہے۔
اس کے برعکس، ملینئل والدین، جو ڈیجیٹل دور کے زیادہ باشعور اور محتاط صارفین مانے جاتے ہیں، اس حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح بچوں کی ابتدائی عمر کی تصاویر کو عوامی یا غیر محفوظ اے آئی سسٹمز میں ڈالنا ان کے مستقبل کی ڈیجیٹل پرائیویسی کو دائو پر لگانے کے مترادف ہے۔ والدین کا یہ موقف ہے کہ بچوں کے انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل نقوش (Digital Footprints) ان کی اجازت کے بغیر اس طرح تشکیل نہیں پانے چاہئیں، خاص طور پر جب اے آئی کمپنیوں کے ڈیٹا پالیسی اصولوں پر مکمل اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور خاندانی روایات کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں ایک طرف نسلوں کے درمیان محبت کے اظہار کے طریقے بدل رہے ہیں، وہیں دوسری طرف جدید دور کے سکیورٹی اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کا یہ مشورہ ہے کہ بزرگوں اور والدین کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے جڑے خطرات پر کھلے دل سے بات چیت ہونی چاہیے تاکہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے بغیر اس کے کہ خاندانی خوشیاں متاثر ہوں۔