LIVE
Loading Breaking News...

AI اداکارہ ٹلی نارووڈ لائیو شو میں گلیچ کا شکار، کینٹونیز بولنے لگیں

News Image
مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی جانے والی ڈیجیٹل اداکارہ ٹلی نارووڈ پیئرز مورگن کے لائیو شو میں تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئیں۔ انٹرویو کے دوران اسکرین پر فنی خرابی پیدا ہوئی اور انہوں نے اچانک روایتی انگریزی چھوڑ کر کینٹونیز زبان میں گفتگو شروع کر دی۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اس وقت ایکو سسٹم کے اندر ہلچل مچ گئی ہے جب معروف ورچوئل یا اے آئی اداکارہ ٹلی نارووڈ ایک لائیو انٹرویو کے دوران شدید تکنیکی خرابی یعنی گلیچ کا شکار ہو گئیں۔ معروف براڈکاسٹر پیئرز مورگن کے لائیو شو میں گفتگو کے دوران ٹلی نارووڈ نے اچانک انگریزی زبان کو چھوڑ کر روانی کے ساتھ کینٹونیز زبان میں بات کرنا شروع کر دی، جس پر نہ صرف میزبان بلکہ ناظرین بھی دنگ رہ گئے۔ اس غیر متوقع اور حیرت انگیز واقعے نے میڈیا اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کے حمیلی اواتار مکمل طور پر قابو میں ہیں یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پیئرز مورگن ٹلی نارووڈ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شوبز انڈسٹری میں مستقبل اور اس کے اثرات پر گفتگو کر رہے تھے۔ گفتگو کے عین وسط میں ٹلی نارووڈ کے ڈیجیٹل چہرے کے تاثرات میں ایک سیکنڈ کے لیے خلل آیا اور ان کی آواز کا لہجہ بدل گیا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے کینٹونیز زبان میں جملے ادا کرنا شروع کر دیے، جسے دیکھ کر شو کے پروڈیوسرز اور تکنیکی عملے میں بھی دوڑ لگ گئی۔ بعد ازاں خود ٹلی نارووڈ کے سسٹم نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا کہ بظاہر انہیں ایک چھوٹا سا تکنیکی مسئلہ یا ہکپ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کے تکنیکی ماہرین اور ماہرینِ نفسیات نے مصنوعی ذہانت کے کنٹرول اور اس کے ڈیٹا بیس پر گہرے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اے آئی اواتار جو انسانی جذبات اور مکالمے کی نقل کرتے ہیں، ان کے پسِ پردہ کام کرنے والے الگورتھمز میں اچانک زبان کی تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سسٹمز بعض اوقات غیر متوقع رویہ اپنا سکتے ہیں۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں پہلے ہی انسان اداکاروں کے حقوق اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تنازع جاری ہے، اور اس واقعے نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔ ٹلی نارووڈ کا یہ انٹرویو اب سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکا ہے جہاں صارفین اس پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے محض ایک معمولی سافٹ ویئر بگ قرار دے رہے ہیں جبکہ بہت سوں کا ماننا ہے کہ یہ ڈیجیٹل دنیا کا ایک ایسا پوشیدہ رخ ہے جو مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ بہرحال، اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی میں تیزی سے سرائیت کر رہی ہے، لیکن یہ اب بھی سو فیصد غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔