World
ارل اسپینسر کا بی بی سی انٹرویو: شاہ چارلس اور شاہی تنازعات پر اہم انکشافات
پرنسز ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے ایک حالیہ انٹرویو میں شاہی خاندان سے متعلق کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیانا کی وفات کے بعد شاہ چارلس کا رویہ انتہائی سخت اور غصے سے بھرپور تھا۔
برطانوی شاہی خاندان میں اندرونی کشمکش اور تنازعات ایک بار پھر سرخیوں کا حصہ بن چکے ہیں جب پرنسز ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے ایک حالیہ تفصیلی انٹرویو میں کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ان بیانات نے برطانوی بادشاہت کے اندرونی معاملات اور ماضی کے زخموں کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے، جس پر عوامی اور میڈیا کی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ارل اسپینسر نے اپنے اس انٹرویو میں پرنسز ڈیانا کی اچانک وفات کے بعد کے ادوار اور شاہی محل کے رویوں پر روشنی ڈالی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ارل اسپینسر کا دعویٰ ہے کہ پرنسز ڈیانا کی المناک موت کے فوراً بعد اس وقت کے شہزادہ چارلس (جو اب برطانیہ کے بادشاہ ہیں) فون پر شدید غصے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر انتہائی سخت اور جارحانہ رویہ اختیار کیا جس نے اس مشکل وقت میں خاندان کے اندر موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا۔ ارل اسپینسر کے انکشافات میں شاہی خاندان کے اندرونی فیصلوں اور دونوں بھائیوں یعنی شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری اور خلیج کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس نے محل کے دعووں کو چیلنج کیا ہے۔
دوسری جانب، شاہی محل کی طرف سے ان دعوؤں پر فوری اور نپا تلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ محل کے ذرائع اور قریبیح حامیوں کا کہنا ہے کہ غم اور صدمے کی کیفیت انسان کی یادداشت کو متاثر کر سکتی ہے، اور گزرے ہوئے وقت کے واقعات کو اس پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ محل کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے پرانے تنازعات کو ہوا دینا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، خاص طور پر جب شاہی خاندان خود کو جدید اور مستحکم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس پورے معاملے نے ایک بار پھر برطانوی میڈیا اور عوام کو شہزادہ ڈیانا کی یادوں اور ان کے خاندان کے اندرونی بحرانوں پر بحث کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ارل اسپینسر کی جانب سے کیے جانے والے یہ انکشافات شاہی خاندان کی ساکھ اور بادشاہ چارلس کی عوامی شبیہ پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ جہاں ایک طرف شاہی مداح محل کے دفاع میں کھڑے ہیں، وہیں دوسری طرف ناقدین انکشافات کی گہرائی میں جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔