Health
نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق تحفظات اور آواز
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوجوان ذہنی صحت کے سفیروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی نسل پرانے طریقوں کو خیرباد کہہ رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کی بہتر اور زیادہ معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
نئی نسل نے ماضی کے روایتی طریقوں کو یکسر بدلتے ہوئے ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ بی بی سی کی نمائندہ کیتھرین برنز نے حال ہی میں کچھ ایسے نوجوان ذہنی صحت کے سفیروں سے بات چیت کی ہے جنہوں نے معاشرتی دباؤ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پرانی نسلیں ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کو دبا دیا کرتی تھیں مگر اب اس رویے میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان نوجوان سفیروں کا ماننا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو چھپانے سے معاملات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں، اس لیے اس موضوع پر کھل کر بات کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
گفتگو کے دوران ان نوجوانوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں اور کام کرنے کی جگہوں پر ذہنی صحت کی معاونت کے نظام کو مزید بہتر اور موثر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں تعلیمی دباؤ، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اور ڈیجیٹل میڈیا کے منفی اثرات نے نوجوانوں کی ذہنی حالت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایسے میں اگر بروقت رہنمائی اور پروفیشنل مدد فراہم نہ کی جائے تو یہ مسائل سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ان کے والدین یا گزشتہ دور کے لوگ اس موضوع کو سنجیدہ نہیں لیتے تھے اور اسے محض ایک عارضی کیفیت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے، لیکن موجودہ دور کے نوجوان اس بیانیے کو تبدیل کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات نے بھی نوجوانوں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنے سے خودکشی کے رجحانات اور شدید ڈپریشن جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ جب نوجوان اپنے جذبات اور ذہنی کیفیات کو بلاجھجھک بیان کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو علاج کا عمل بھی زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ سفیروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسکولوں کی سطح پر ہی بچوں کو ذہنی صحت کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ وہ بچپن ہی سے اپنے جذبات کو سمجھنا اور ان کا اظہار کرنا سیکھ سکیں۔
آخر میں، ان نوجوان سفیروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی اس مہم کو جاری رکھیں گے تاکہ معاشرے میں موجود اس بدنما داغ یا ہچکچاہٹ کو ختم کیا جا سکے جو ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو کھل کر مدد حاصل کرنے سے روکتی ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ اب خاموشی کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہر اس شخص کو آگے آنا چاہیے جسے ذہنی معاونت کی ضرورت ہے، تاکہ ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔