LIVE
Loading Breaking News...

امریکی میڈیا ہاؤسز کا وائٹ ہاؤس کی پابندی کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

News Image
امریکی میڈیا اداروں سی این این، ایم ایس این او اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اداروں کا مؤقف ہے کہ حکومت کو یہ طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں کہ پریس کیا خبر شائع کرے۔
امریکہ کے معروف میڈیا اداروں بشمول سی این این، ایم ایس این او اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے عائد کی جانے والی میڈیا پابندی کے خلاف باضابطہ طور پر عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بنیادی اصول کا دفاع کر رہے ہیں کہ حکومت کو ہرگز یہ اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پریس کو بتائے کہ اسے کیا رپورٹ کرنا ہے اور کیا شائع کرنا ہے۔ میڈیا تنظیموں کے مطابق یہ اقدام آزادی صحافت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران وائٹ ہاؤس اور ان میڈیا اداروں کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب انتظامیہ کی جانب سے بعض مخصوص رپورٹرز اور چینلز کو کوریج سے روکا گیا یا ان کے رسائی کے حقوق کو محدود کیا گیا۔ میڈیا ماہرین اور قانون دانوں نے اس عمل کو آئین کی پہلی ترمیم کے منافی قرار دیا ہے، جو پریس کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ اسی تناظر میں مختلف میڈیا ہاؤسز نے اتفاق کیا ہے کہ اس حکومتی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جانا ضروری ہے۔ مقدمہ دائر کرنے والے اداروں کا عزم ہے کہ وہ پریس کی آزادی پر کسی بھی قسم کی قدغن کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جمہوری نظام کی بقا کے لیے ایک آزاد اور خودمختار میڈیا کا ہونا ناگزیر ہے جو بغیر کسی خوف یا دباؤ کے عوام تک حقائق پہنچا سکے۔ قانونی جنگ کے اس فیصلے سے امریکہ میں آزادی صحافت کی طویل تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔