World
امریکی منشیات مخالف حملے انسانیت کے خلاف جرم قرار، اقوام متحدہ کا انکشاف
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مبینہ منشیات کی اسمگلنگ کی کشتیوں پر امریکی حملے خود دفاع کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان حملوں کی تعداد کم از کم اڑسٹھ تک پہنچ چکی ہے جنہیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ اور انتہائی اہم رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ سمندر میں مبینہ منشیات کی نقل و حمل میں ملوث کشتیوں کے خلاف کیے جانے والے امریکی حملے انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس طرح کے کم از کم اڑسٹھ حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا۔ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ کارروائیاں کسی بھی طرح سے خود دفاع کے زمرے میں نہیں آتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستوں کی طرف سے سمندری حدود میں اس نوعیت کے پرتشدد اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان اور طریقہ کار پر شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے منشیات کے انسداد کے نام پر کی جانے والی ان کارروائیوں کو اب عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مروجہ بین الاقوامی ضابطوں کے تحت کسی بھی مشکوک سرگرمی سے نمٹنے کے لیے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا لازمی ہے، نہ کہ طاقت کا ایسا استعمال جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن جائے۔ اس سنگین صورتحال نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے پر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر نظرثانی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر قانونی اقدامات کو روکا جا سکے۔