World
لبرل ڈیموکریٹس کا زچگی کے دوران مڈوائف کی دیکھ بھال کا مطالبہ اور فنڈنگ کا اعلان
برطانوی لبرل ڈیموکریٹس کے رہنما سر ایڈ ڈیوے نے حکومت میں آنے کی صورت میں زچگی کے شعبے پر سالانہ 600 ملین پاؤنڈ خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دوران ہر ماں کو ایک مخصوص مڈوائف کی ذاتی دیکھ بھال ملنی چاہیے۔
برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے ملک کے زچگی کے نظام میں انقلابی اصلاحات لانے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دوران ہر ماں کو ایک مخصوص مڈوائف کی مکمل اور انفرادی توجہ حاصل ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوے نے ایک اہم انتخابی و پالیسی وعدہ کیا ہے جس کے تحت اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو زچگی کی خدمات پر ہر سال 600 ملین پاؤنڈز کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ سر ایڈ ڈیوے کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں ماؤں کو وہ توجہ اور نگہداشت نہیں مل رہی جو ان کا بنیادی حق ہے، اور اس صورتحال کو بدلنے کے لیے فوری مالیاتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
سر ایڈ ڈیوے کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں میٹرنٹی یونٹس اور ہسپتالوں میں عملے کی شدید کمی اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور فلاحی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ نشاندہی کرتی چلی آ رہی ہیں کہ مڈوائفز کی کمی کے باعث نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لبرل ڈیموکریٹس کا ماننا ہے کہ اگر ایک حاملہ خاتون کو حمل کے آغاز سے لے کر زچگی کے آخری مرحلے تک ایک ہی تجربہ کار مڈوائف کی نگرانی میسر ہو تو اس سے طبی پیچیدگیوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے اور طبی غفلت کے واقعات کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تجویز کردہ چھ سو ملین پاؤنڈز کے سالانہ فنڈز کو بنیادی طور پر نئی مڈوائفز کی بھرتی، ان کی بہتر تربیت اور پہلے سے موجود عملے کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہیلتھ سیکٹر میں اس سرمایہ کاری سے نہ صرف عملے کا حوصلہ بلند ہوگا بلکہ ہسپتالوں پر پڑنے والا اضافی بوجھ بھی کم ہوگا۔ لبرل ڈیموکریٹس اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی مہم کو مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عام انتخابات یا آئندہ کی پالیسیوں میں اس مسئلے کو اولین ترجیح کے طور پر شامل کیا جا سکے اور برطانوی ماؤں کو محفوظ ترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔