LIVE
Loading Breaking News...

امریکا اور چین کے درمیان اے آئی ہاٹ لائن قائم کرنے کا امکان

News Image
صدر نامزد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے سامنے امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ایک ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز پیش کرنے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں سپر پاورز کے درمیان بڑھتی ہوئی تکنیکی مسابقت اور تناؤ کو کم کرنا ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ کے سامنے ایک خصوصی 'اے آئی ہاٹ لائن' قائم کرنے کی تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مجوزہ ہاٹ لائن کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی میدان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا بحران کو بروقت روکنا ہے۔ دنیا کی یہ دونوں بڑی معیشتیں اس وقت جدید ٹیکنالوجی بالخصوص سیمی کنڈکٹرز اور ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں سخت مسابقت کا شکار ہیں۔ امریکہ کی جانب سے چین پر عائد کردہ سخت تکنیکی پابندیوں اور برآمدی کنٹرول نے دونوں ملکوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ہاٹ لائن کا قیام ایک ایسا مواصلاتی ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے ذریعے ہنگامی صورتحال میں براہ راست رابطے بحال رکھے جا سکیں۔ اگرچہ یہ خیال ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس پر سنجیدہ نوعیت کی بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے عسکری اور تجارتی استعمال میں شفافیت لائی جا سکے۔ بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی جیسی انقلابی ٹیکنالوجی کے ضابطے کے لیے دونوں ممالک کا تعاون ناگزیر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس قسم کی پہلگدھی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ واشنگٹن تجارتی پابندیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی اور حفاظتی چینلز کو بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بیجنگ اس تجویز پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور آیا دونوں حریف ممالک اسٹریٹجک سطح پر ایک محفوظ رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔