LIVE
Loading Breaking News...

قازقستان کا اے آئی مرکز بننے کا منصوبہ اور اس کے چیلنجز

News Image
قازقستان حکومت نے ملک کو مصنوعی ذہانت کا علاقائی مرکز بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ تاہم ماہرین نے اس ترقی کے ماحول اور انسانی حقوق پر ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں وارننگ جاری کی ہے۔
وسطی ایشیائی ملک قازقستان نے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے خود کو مصنوعی ذہانت (AI) کا علاقائی مرکز بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ حکومتی سطح پر اس شعبے کی ترقی کے لیے انفراسٹرکچر کی بہتری، ڈیجیٹل خدمات کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ ملک کے پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے معیشت کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے جدید مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ تاہم اس تمام عمل کے دوران ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار پھیلاؤ اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے توانائی کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہو گا جو کہ ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل نگرانی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ترقیاتی اہداف اور عوامی حقوق کے درمیان ایک متوازن حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بنیادی انسانی اقدار کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ قازقستان کی انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہوگا کہ وہ علاقائی ٹیکنالوجی لیڈر بننے کی اس دوڑ میں ماحولیاتی پائیداری اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو کس طرح پورا کرتی ہے۔