World
یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی اور امریکی حملے معطل ہونے کی خبریں
یمن میں حوثی باغیوں نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں میں تیزی لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری وقت پر فضائی حملے روک دیے ہیں جس سے خطے میں نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یمن میں ایران کے حامی حوثی باغیوں نے ملک کے اسٹریٹجک طور پر اہم ہائی لینڈز اور دیگر بلند مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی عسکری پیش قدمی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیش قدمی اس وقت سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف مجوزہ فضائی حملوں کو آخری لمحے میں روک دیا۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں امریکی حکمت عملی اور سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد اور خطے میں عسکری مداخلت کے لیے شدید درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے وہ ایک مشکل دلدل میں پھنس گئے تھے۔ سعودی عرب اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے بیرونی دباؤ اور فوجی طاقت کا استعمال ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، حوثی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی فریق یا ملک سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن کی اس بڑھتی ہوئی خانہ جنگی میں کودے گا، اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے رکنے سے حوثی باغیوں کو زمینی محاذ پر مزید حوصلہ ملا ہے اور وہ اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک موڑ پر داخل ہو چکی ہے اور بین الاقوامی برادری یمن میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا انحصار اس پر ہوگا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی یمن کے معاملے پر کیا نئی حکمت عملی طے کرتے ہیں، جبکہ یمنی عوام پہلے ہی طویل جنگ کی وجہ سے شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔