World
یوکرین کا ماسکو کی آئل ریفائنری پر بڑا ڈرون حملہ
یوکرین نے روس میں صدارتی انتخابات کے دوران ماسکو کی ایک بڑی آئل ریفئری پر تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ماسکو کے علاقے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے اور روسی دارالحکومت میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
یوکرین کی افواج نے روس میں صدارتی انتخابات اور ولادیمیر پوتن کی متنازعہ کامیابی کے موقع پر ماسکو پر ایک بڑا اور فیصلہ کن ڈرون حملہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حالیہ جنگ کے دوران دارالحکومت ماسکو پر ہونے والے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک ہے، جس میں سیکڑوں کی تعداد میں یوکرینی ڈرونز نے روسی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ اس حملے کا بنیادی ہدف ماسکو کے نواح میں واقع ایک اہم تیل صاف کرنے والی فیکٹری (آئل ریفائنری) کو بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید دھماکے سنے گئے اور آگ بھڑک اٹھی۔
ماسکو کے میئر اور مقامی حکام نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم کچھ ڈرونز اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جن کے ملبے اور حملے سے ریفائنری اور قریبی علاقوں میں نقصان پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ماسکو کے نواحی علاقوں میں اس فضائی کارروائی کے دوران کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں اور فائر فائٹرز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے اور مزید نقصانات کو روکا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے یہ حملہ عین ایسے وقت میں کیا گیا جب روس میں صدارتی انتخابات کے نتائج سامنے آ رہے تھے اور ولادیمیر پوتن ایک بار پھر اقتدار سنبھالنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس حملے کا مقصد نہ صرف روسی عسکری و اقتصادی تنصیبات کو نقصان پہنچانا ہے بلکہ روسی حکومت کو یہ واضح پیغام دینا بھی ہے کہ یوکرین جنگ اب براہ راست روسی دارالحکومت کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔ اس ڈرون حملے کے بعد روس کے مختلف شہروں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور دفاعی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔