Business
امریکی افراط زر اور معاشی طلب: فیڈرل ریزرو کا اہم بیان
فیڈرل ریزرو کے سینئر عہدیدار آسٹن گولزبی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت میں مضبوط طلب اب بھی افراط زر میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے قیمتوں کے استحکام کی بحالی کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے۔
شکاگو فیڈرل ریزرو کے صدر آسٹن گولزبی نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت میں صارفین کی جانب سے مضبوط طلب اب بھی افراط زر کی شرح میں اضافے کا ایک اہم سبب بن رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کو مہنگائی کو قابو میں لانے اور قیمتوں کا دیرپا استحکام بحال کرنے کے لیے مستعدی اور جارحانہ اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔ آسٹن گولزبی کے مطابق، افراط زر کے خلاف یہ جنگ آسان نہیں ہوگی اور اس عمل کے معیشت پر کچھ ناگزیر اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالیہ معاشی اعشاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ عالمی سطح پر رسد کے مسائل میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم اندرون ملک طلب کا دباؤ قیمتوں کو نیچے لانے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ فیڈرل ریزرو کو اب بھی سپلائی شاکس اور تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے صرف انتظار کرنے کی حکمت عملی کارآمد ثابت نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی بینک کو مانیٹری پالیسی کے فیصلوں میں انتہائی محتاط اور فیصلہ کن رویہ اپنانا پڑ رہا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ گولزبی کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کے حوالے سے جلدی میں نہیں ہے جب تک کہ مہنگائی کے ہدف تک پہنچنے کے پختہ شواہد سامنے نہ آ جائیں۔ معاشی مبصرین کے مطابق، اس وقت امریکی معیشت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج افراط زر کو قابو میں لاتے ہوئے کساد بازاری سے بچنا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے پالیسی ساز آنے والے مہینوں میں لیبر مارکیٹ اور صارفین کے اخراجات کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ سود کی شرح کو کتنی مدت تک بلند سطح پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔