World
ایڈ شیراں اور میکلمور فلسطین تنازع پر برطانوی عوام کی رائے
برطانیہ میں مشہور گلوکار ایڈ شیراں اور میکلمور کے فلسطین حامی بیانات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ برطانوی عوام اس معاملے پر مختلف آراء رکھتے ہیں جبکہ میڈیا میں بھی اس پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں۔
برطانیہ میں معروف عالمی گلوکاروں ایڈ شیراں اور میکلمور کے فلسطین کے حق میں دیے جانے والے بیانات اور پیدا ہونے والے تنازع پر بحث کا سلسلہ رک نہیں سکا۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی پیش رفت کے بعد برطانوی عوام اور مبصرین اس معاملے پر واضح طور پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف جہاں بعض حلقے گلوکاروں کے ان مؤقف کو سراہ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اس پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
فلاڈیلفیا میں اپنے پہلے شو کے دوران برطانوی گلوکار ایڈ شیراں نے اپنی پرفارمنس کے دوران بعض غلطیوں کا اعتراف کیا، جو میکلمور کے ساتھ جڑے حالیہ تنازع کے بعد سامنے آئیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب عالمی سطح پر فنکاروں کی جانب سے فلسطین کے معاملے پر آواز اٹھانے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ برطانوی میڈیا میں بھی اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا فنکاروں کو سیاسی اور تنازعات سے بھرپور موضوعات پر کھل کر بات کرنی چاہیے یا نہیں۔
دوسری جانب، دیگر فنکاروں اور شخصیات کی جانب سے بھی غزہ کے متاثرین کے لیے عطیات دینے اور آواز بلند کرنے کی مہم جاری ہے۔ مس ریچل جیسی نمایاں شخصیات نے امیر اور با اثر سفید فام مشہور شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور غزہ کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس پس منظر میں برطانوی عوام کا رویہ بھی بدل رہا ہے اور لوگ اس تنازع کو گہرائی سے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے متنازع بیانات سے جہاں ایک طرف عوامی شعور بیدار ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف شوبز کی دنیا میں پولرائزیشن بھی بڑھ جاتی ہے۔ برطانوی معاشرے میں اس وقت فلسطین کے معاملے پر مختلف نظریات پائے جاتے ہیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والے دنوں میں فنکار برادری اس دباؤ کا مقابلہ کیسے کرتی ہے۔