LIVE
Loading Breaking News...

یمن جنگ: حوثی تنازعے سے متاثرہ افراد کا بحیرہ احمر عبور کر کے جبوتی انخلا

News Image
یمن میں جاری تنازعے اور جنگ میں شدید اضافے کے بعد یمنی شہریوں کی بڑی تعداد بحیرہ احمر عبور کر کے جبوتی پناہ لینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ بی بی سی کے صحافی فرینک گارڈنر نے ان مہاجرین سے خصوصی بات چیت کی ہے جنھوں نے انتہائی کٹھن حالات میں سمندر پار کیا۔
یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان جاری تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلح جھڑپوں سے جان بچانے کے لیے سیکڑوں یمنی شہریوں نے خطرناک سمندری سفر کا انتخاب کیا ہے اور وہ بحیرہ احمر عبور کر کے افریقی ملک جبوتی پہنچ رہے ہیں۔ جنگ کی اس نئی لہر نے خطے میں ایک بار پھر انسانی بحران کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے سینئر نامہ نگار فرینک گارڈنر نے اس حوالے سے جبوتی پہنچنے والے کچھ ایسے ہی بے گھر افراد سے ملاقات کی ہے جنھوں نے اس خوفناک سمندری سفر کی تلخ حقیقتوں کو بیان کیا۔ ان پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری بمباری اور زمینی کارروائیوں کی وجہ سے ان کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کا کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ بحیرہ احمر کا یہ سفر انتہائی کٹھن اور خطرناک ہے کیونکہ اس راستے پر سمندری طوفانوں کے علاوہ جنگی سرگرمیوں کے اثرات بھی موجود ہیں، اس کے باوجود لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اس سمندر کو عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں جبوتی پہنچنے والے ان مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے کوشاں ہیں، لیکن وسائل کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے جلد کوئی سنجیدہ سفارتی کوشش نہ کی گئی تو یمن سے نقل مکانی کرنے والوں کی یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔