LIVE
Loading Breaking News...

فرانس: پولیس کے متنازع قانون کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

News Image
فرانس میں ہزاروں افراد نے پولیس کے طاقت کے استعمال سے متعلق ایک نئے قانون کیخلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون پولیس کو قتل کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔
فرانس بھر میں ہزاروں مشتعل مظاہرین پولیس کے طاقت کے استعمال سے متعلق ایک نئے متنازع قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے لگام اختیارات فراہم کرتا ہے اور یہ دراصل پولیس کو قتل کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔ اس قانون کو لے کر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور عوامی سطح پر اس کی بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔ دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں نکالی گئی ریلیوں میں شریک افراد نے حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ حکومت سے اس قانون کو فوری طور پر واپس لینے کا پرزور مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے قوانین سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلے گا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی ہوگی۔ دوسری طرف حکومتی حکام نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے عملے کو تحفظ فراہم کرنا اور امن و امان کی بہتر صورتحال کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ پولیس اہلکار پہلے ہی مشکل ترین حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہیں مناسب قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔ تاہم عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے پولیس کی جانب سے طاقت کے غلط استعمال کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال فرانسیسی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے کیونکہ عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر حکومت نے اس معاملے پر مظاہرین کے ساتھ کوئی لچک نہ دکھائی تو آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے ملک میں سیاسی اور سماجی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔