World
بن گویر کا فلسطینی قیدی کے لیے سزائے موت کا مطالبہ
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے ایک اسرائیلی آباد کار کو ہلاک کرنے والے فلسطینی کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے یروشلم ڈیلی نے رپورٹ کیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے رہنما نے سخت ترین سزاؤں کی وکالت کی ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایک فلسطینی کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے جس پر ایک اسرائیلی آباد کار کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ یروشلم ڈیلی کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، بن گویر کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور سکیورٹی کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کے اندر بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اتمار بن گویر نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور انہیں کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بن گویر کا یہ مطالبہ ان کی روایتی سخت گیر سیاست کا حصہ ہے جو اکثر اس قسم کے المناک واقعات کے بعد سامنے آتی ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات سے خطے میں مزید کشیدگی پھیل سکتی ہے اور پہلے سے نازک صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، بن گویر کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکےـ
اس واقعے اور اس کے بعد سامنے آنے والے مطالبات نے ایک بار پھر اسرائیلی سیاسی حلقوں اور قانونی ماہرین کے درمیان بحث کو چھیڑ دیا ہے۔ اسرائیل کے قانونی نظام میں پہلے ہی کچھ مخصوص حالات میں سزائے موت کا قانون موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد انتہائی نایاب رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بن گویر کا یہ تازہ مطالبہ حکومت کی سطح پر کس قسم کی پالیسی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے اور آیا اس معاملے پر کوئی باضابطہ قانون سازی کی جاتی ہے یا نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس قسم کے بیانات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے امن کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔