World
چین میں دو اعلیٰ فوجی جرنیل بدعنوانی کے الزام میں پارٹی سے فارغ
چین نے بدعنوانی اور وفاداری کے فقدان کے الزامات کے تحت دو اعلیٰ ترین فوجی جرنیلوں کو حکمران کمیونسٹ پارٹی سے خارج کر دیا ہے۔ یہ کارروائی صدر شی جن پنگ کی جانب سے فوج کے اندر جاری وسیع تر انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہے۔
بیجنگ: چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی نے بدعنوانی اور پارٹی سے غداری کے سنگین الزامات کے تحت دو اعلیٰ ترین فوجی عہدیداروں کو پارٹی سے خارج کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ملک میں جاری اس وسیع تر انسدادِ بدعنوانی مہم کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد مسلح افواج کے اندر نظم و ضبط کو مزید سخت کرنا اور پارٹی کے ساتھ مکمل وفاداری کو یقینی بنانا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان اعلیٰ فوجی شخصیات کے خلاف یہ فیصلہ اندرونی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ چینی حکومت اور فوج نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی سلامتی اور دفاعی اداروں کی پاکیزگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملک کے عسکری ڈھانچے میں صفائی اور اصلاحات لانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں پچھلے چند برسوں کے دوران فوج اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں کئی بڑے عہدیداروں کو اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ انتظامیہ فوج کے اندر کسی بھی قسم کی غفلت یا بدعنوانی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے جہاں ایک طرف فوج میں اندرونی اصلاحات کو تقویت ملتی ہے، وہیں دوسری طرف عسکری قیادت پر پارٹی کی گرفت بھی مزید مضبوط ہوتی ہے۔