World
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ناکامی پر انتونیو گوتریس کا اظہارِ تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ سلامتی کونسل کے مفلوج ہونے کی وجہ سے عالمی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں کو موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر عالمی نظام کی کمزوریوں اور سلامتی کونسل کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے حالات مسلسل بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی تنازعات اور بحرانوں کے دوران سلامتی کونسل کا موثر کردار ادا نہ کر پانا عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
انتونیو گوتریس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی مدتِ ملازمت رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہونے والی ہے، تاہم تاحال ان کے جانشین کا باضابطہ اعلان نہیں کیا جا سکا۔ اپنے دور اقتدار کے اختتام پر دیے گئے ان بیانات میں انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طویل عرصے سے درکار اصلاحات پر عمل درآمد کرے تاکہ اقوام متحدہ کے ادارے بالخصوص سلامتی کونسل کو درپیش جمود سے نکالا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یوکرین، مشرق وسطیٰ اور دیگر عالمی تنازعات کے تناظر میں سلامتی کونسل کے اراکین کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات نے ادارے کو عملی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ వీٹو پاور کے استعمال اور باہمی چپقلش کی وجہ سے کونسل دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے میں ناکام رہی ہے، جس سے ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا مزید خطرناک موڑ پر پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عالمی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں تاکہ آنے والے وقتوں میں انسانیت کو بڑے پیمانے پر کسی بھی المیے سے بچایا جا سکے۔