World
انتونیو گوتریس کا انٹرویو: کیا اقوام متحدہ عالمی بحران حل کرنے میں ناکام ہے؟
الجزیرہ کے جیمز بیز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک تفصیلی ملاقات کی ہے۔ اس انٹرویو میں عالمی سطح پر درپیش چیلنجز اور اقوام متحدہ کے کردار پر گہری گفتگو کی گئی۔
الجزیرہ کے معروف صحافی جیمز بیز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران دنیا بھر میں جاری پیچیدہ تنازعات، معاشی عدم استحکام اور بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو کا بنیادی محور یہ سوال تھا کہ آیا اقوام متحدہ جیسی بڑی عالمی تنظیم موجودہ دور کے سنگین ترین چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
انتونیو گوتریس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آج کا عالمی منظرنامہ سرد جنگ کے دوران کے دور سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو چکا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری جنگیں، انسانی حقوق کی پامالیوں، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے کثیر جہتی سفارت کاری کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات لائے بغیر عالمی سطح پر امن و امان کا قیام ایک کٹھن مرحلہ بنا رہے گا۔
ملاقات کے دوران دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے حوالے سے آنے والی رکاوٹوں پر بھی کھل کر بات کی گئی۔ سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ تنوع اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے متحد ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی نہ اپنائی تو دنیا کو مزید بڑے معاشی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر عالمی اداروں کی تاثیر اور ان کے فیصلوں کی عملداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، انتونیو گوتریس کے خیالات عالمی سیاست میں ایک اہم فکری مباحثہ چھیڑ سکتے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی پالیسیوں اور اس کے مستقبل کے لائحہ عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔