LIVE
Loading Breaking News...

شام میں فوجی اڈوں پر دھماکے، ناقص ذخیرہ اندوزی یا تخریب کاری

News Image
شام کے مختلف فوجی اڈوں پر بار بار ہونے والے دھماکوں نے تباہ کن جنگ کے بعد فوج کی تشکیل نو کے عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان پراسرار دھماکوں کے پیچھے ناقص اسٹوریج ہے یا کوئی سوچی سمجھی تخریب کاری، اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
شام میں فوجی اور عسکری تنصیبات کے اندر وقتاً فوقتاً ہونے والے دھماکوں کے سلسلے نے ملکی سلامتی کے اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سالوں کی طویل اور تباہ کن خانہ جنگی کے بعد جب ملک میں ایک بار پھر سے باقاعدہ فوج کی تشکیل نو کا عمل جاری ہے، ایسے میں حساس مقامات پر ہونے والے یہ دھماکے حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ماہرین اور عسکری تجزیہ کار اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ملک کی داخلی سلامتی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقات کے مطابق، ان پرسرار دھماکوں کی بنیادی وجوہات کے بارے میں دو اہم آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جانب تو عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثات گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کے لیے ناقص ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ جنگ کے دوران مناسب انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور پرانے گوداموں میں اسلحہ رکھنے کی وجہ سے ایسے حادثات کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب، اس امکان کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا جا رہا کہ ان واقعات کے پیچھے کسی بیرونی یا اندرونی دشمن کی تخریب کاری کارفرما ہو سکتی ہے، جو شام کی فوج کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہونے سے روکنا چاہتی ہے۔ حکومتی اور عسکری حلقوں کی جانب سے ان تمام واقعات کی شفاف اور گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہیں یا کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ۔ تاہم، اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شام کو ابھی اپنے امن اور دفاعی استحکام کے سفر میں طویل اور کٹھن راستے طے کرنے ہیں۔ ملک کے اندر بحالی کے اس کڑے وقت میں عسکری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کے لیے اولین ترجیح ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔