LIVE
Loading Breaking News...

ریاض پر حوثی میزائل حملہ، اقوام متحدہ کا ردعمل اور یمن کی صورتحال

News Image
اقوام متحدہ نے دارالحکومت ریاض پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کی سخت مذمت کی ہے جبکہ یمن میں جاری تنازع کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اشاروں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حوثی باغیوں کے حالیہ میزائل حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت میں حساس مقامات اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا۔ سعودی حکام نے بھی دارالحکومت پر حملے کی تصدیق کی ہے جس سے خطے میں ایک بار پھر سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس حملے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دوسری جانب یمن کے اندرونی حالات بھی انتہائی ابتر ہوتے جا رہے ہیں جہاں جاری لڑائی اور تنازعات کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو یمن میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جہاں لاکھوں افراد پہلے ہی خوراک اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں، جہاں ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے کچھ شرائط کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور عسکری کارروائیوں کو فوری طور پر روک کر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا تاکہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔