LIVE
Loading Breaking News...

ہیومنائڈ روبوٹ پیٹنٹ: چین اور امریکہ کا تقابلی جائزہ

News Image
حالیہ رپورٹس کے مطابق ہیومنائڈ روبوٹ کے شعبے میں چین سب سے زیادہ پیٹنٹ حاصل کرنے والا ملک بن گیا ہے جبکہ امریکہ اس ٹیکنالوجی کے معیار اور بہتری میں سب سے آگے ہے۔ عالمی سطح پر روبوٹکس کی اس دوڑ میں دونوں ممالک کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
عالمی سطح پر روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری جنگ اب مزید تیز ہو گئی ہے جہاں حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس نے ایک دلچسپ حقیقت آشکار کی ہے۔ ہیومنائڈ روبوٹکس کے شعبے میں گذشتہ چند سالوں کے دوران پیٹنٹ کے اندراج کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چین اس میدان میں سب سے آگے ہے اور اس معاملے میں اس کا کوئی قریبی حریف دکھائی نہیں دیتا۔ چین کی جانب سے بڑی تعداد میں روبوٹکس سے متعلقہ ٹیکنالوجیز کے پیٹنٹ رجسٹر کروائے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس شعبے میں تیزی سے تحقیق اور ترقی کا کام جاری ہے۔ دوسری جانب اگرچہ تعداد کے لحاظ سے چین کا پلڑا بھاری ہے لیکن تکنیکی برتری اور معیار کے اعتبار سے امریکہ اب بھی سب سے بہترین پوزیشن میں مانا جا رہا ہے۔ امریکی ادارے اور کمپنیاں ہیومنائڈ روبوٹس کے سافٹ ویئر، جدید ترین سنسرز اور پیچیدہ الگورتھمز پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہیں جو کہ روبوٹس کو انسانوں کی طرح سوچنے اور حرکت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی سب سے بڑی طاقت اس کی صنعتی پیداوار اور تیز رفتار پیٹنٹ سازی ہے، جبکہ امریکہ اعلیٰ ترین معیار اور تحقیق کی بدولت اس دوڑ میں انتہائی مضبوط حریف بنا ہوا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے کیونکہ روبوٹکس کا شعبہ اب صرف صنعتی استعمال تک محدود نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی اور خدمات کے شعبے میں بھی اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ کارخانوں سے لے کر گھریلو معاونین تک، ہیومنائڈ روبوٹس مستقبل کی معیشت کا ایک اہم ستون بننے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتیں اس ٹیکنالوجی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ آنے والی دنیا پر تکنیکی برتری حاصل کی جا سکے اور عالمی مارکیٹ میں سبقت لے جائی جا سکے۔