LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے حملے منسوخ کرنے پر یمن میں حوثیوں کی اسٹریٹجک پیش قدمی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری وقت پر فضائی حملے منسوخ کرنے کے بعد یمن میں حوثی باغیوں نے اہم پہاڑی اور اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں جاری کشیدگی اور سیاسی و عسکری تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف عین وقت پر فضائی حملے روک دینے کے فیصلے کے بعد زمینی صورتحال تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حملے منسوخ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے فورا بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے یمن کے بلند پہاڑی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی پیش قدمی میں تیزی لادی ہے۔ اس پیش قدمی کا مقصد مقامی محاذ پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی عرب کی جانب سے عسکری مدد کے لیے شدید اصرار اور درخواستیں موصول ہو رہی تھیں، جس نے امریکی انتظامیہ کو ایک پیچیدہ اور مشکل سفارتی و عسکری دلدل میں پھنسا دیا تھا۔ ابتدائی طور پر امریکی صدر نے حوثی اہداف کے خلاف طاقت کے استعمال کا سنجیدہ عندیہ دیا تھا اور حملوں کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا تھا، تاہم انتہائی آخری لمحات میں اس فیصلے کو مؤخر یا منسوخ کر دیا گیا جس نے خطے کے تمام فریقین کو حیران کر دیا۔ دوسری جانب، ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے علاقائی طاقتوں اور بالخصوص سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کی بڑھتی ہوئی خانہ جنگی میں براہ راست فریق بننے یا مداخلت کرنے سے گریز کریں۔ حوثی قیادت کا ماننا ہے کہ بیرونی مداخلت سے خطے کا امن تباہ ہو جائے گا اور جنگ کے شعلے مزید پھیل سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملے رکنے سے حوثیوں کو زمینی سطح پر اپنے پیر پھیلانے کا موقع مل گیا ہے، جو آنے والے دنوں میں خطے کے سکیورٹی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔