LIVE
Loading Breaking News...

امریکی میڈیا اداروں کا وائٹ ہاؤس پابندی کیخلاف مقدمہ

News Image
امریکی میڈیا کے بڑے اداروں سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے خلاف باضابطہ قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ ان اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ پر آزادی صحافت سلب کرنے اور امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی صحافت کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ملک کے معروف میڈیا اداروں سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف باضابطہ طور پر عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ قانونی قدم وائٹ ہاؤس کی جانب سے لگائی جانے والی اس پابندی کے بعد اٹھایا گیا ہے جس کے تحت ان اداروں کے نمائندوں کو پریس ڈیپارٹمنٹ اور اہم کوریج سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ میڈیا ہاؤسز کا کہنا ہے کہ یہ قدم براہ راست آزادی صحافت پر حملہ ہے اور عوامی حقِ معلومات کو دبانے کے مترادف ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس تنازع کے بعد کئی بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے وائٹ ہاؤس کی پول ڈیوٹیز (Pool Duties) یعنی مشترکہ کوریج کی ذمہ داریاں نبھانے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ میڈیا اداروں کے وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کا یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ یہ جمہوریت کے بنیادی ستون صحافت کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے پر اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں صحافتی تنظیمیں ان میڈیا اداروں کی حمایت میں سامنے آ گئی ہیں۔ اس مقدمے کے دائر ہونے کے بعد واشنگٹن کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قانونی جنگ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گی اور اس کے امریکی سیاست نیز میڈیا انڈسٹری پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے حامیوں کا اصرار ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اپنے ضابطے نافذ کرنے اور میڈیا کے داخلے کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی عدالت اس اہم آئینی تنازع پر کیا فیصلہ صادر کرتی ہے۔