World
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات، تجارت اور ٹیکنالوجی پر بات چیت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات شیڈول ہے جس میں تجارت اور مصنوعی ذہانت کے امور زیر بحث آئیں گے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین تعلقات میں استحکام اور نئے معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک اہم ملاقات طے پائی ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات میں استحکام لانے اور نئے معاہدوں پر غور کیا جائے گا۔ چینی صدر شی جن پنگ تیئیس سے پچیس ستمبر تک امریکہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی صدر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ اس سربراہی اجلاس سے قبل دونوں ممالک کے حکام کے درمیان تیاری کے سلسلے میں اہم ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں جنہیں کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران عالمی تجارت، ٹیرف کے مسائل اور معاشی استحکام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملاقات کا ایک اور اہم محور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی سلامتی اور اس سے جڑے ضوابط ہوں گے۔ دونوں سپر پاورز کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون اور حفاظتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں پائیدار ضابطہ کار طے کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کی صورتحال اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات بھی اس سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اس ملاقات کو عالمی معیشت اور سیاست کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے آئندہ برسوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کی سمت کا تعین ہوگا۔ تجارتی انجن کی تیز رفتاری کے ساتھ چین اس اجلاس میں مضبوط پوزیشن کے ساتھ شریک ہو رہا ہے جبکہ امریکہ بھی اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔