Technology
فِن ٹیک کمپنی چائم کا مصنوعی ذہانت کی وجہ سے 10 فیصد عملہ کم کرنے کا فیصلہ
مقبول فِن ٹیک کمپنی چائم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کارکردگی اور بہتری کے باعث اپنی کل افرادی قوت میں 10 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ چھوٹی ٹیمیں اب زیادہ تیزی سے کام کر رہی ہیں اور بہتر نتائج دے رہی ہیں۔
معروف فِن ٹیک فرم چائم (Chime) نے اپنی کاروباری کارکردگی کو بہتر بنانے اور آپریشنل امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنی کل افرادی قوت میں 10 فیصد کمی کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم اس وسیع تر معاشی رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اپنے روزمرہ کے امور میں مصنوعی ذہانت (AI) کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں تاکہ اخراجات کو کم کیا جا سکے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں نے کاروباری دنیا کے ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اس فیصلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چائم کے چیف ایگزیکٹو نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور خودکار نظام کے نفاذ کے بعد اب کمپنیاں نسبتاً چھوٹی ٹیموں کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی اور مربوط ٹیمیں اب نہ صرف زیادہ تیزی سے فیصلے لے رہی ہیں بلکہ اہداف کا حصول بھی پہلے سے زیادہ بہتر طریقے سے ممکن ہو رہا ہے۔ فِن ٹیک اور مالیاتی خدمات کے شعبے میں یہ تبدیلی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جہاں روایتی طریقوں کی جگہ ڈیجیٹل اور خودکار نظام لے رہے ہیں۔
چائم کا شمار دنیا کی صف اول کی فِن ٹیک کمپنیوں میں ہوتا ہے، اور اس کی جانب سے ملازمین کی چھانٹی کا یہ فیصلہ مالیاتی اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اس سے قبل دیگر مالیاتی ادارے بھی کارکردگی میں بہتری کے نام پر اسی قسم کے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے روایتی نوکریوں کی نوعیت میں مزید تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جس سے کاروباری اداروں کی کام کرنے کی صلاحیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔