World
لنکن کے بشپ اسٹیفن کونوے جنسی استحصال کی تحقیقات پر مستعفی
برطانیہ کے علاقے لنکن کے بشپ اسٹیفن کونوے ایک سنجیدہ سکیورٹی شکایت اور جنسی استحصال کی تحقیقات کے درمیان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف تحقیقات کا عمل بدستور جاری ہے۔
برطانیہ کے چرچ آف انگلینڈ میں اس وقت ایک اہم ہلچل مچ گئی جب لنکن کے بشپ رائٹ ریورنڈ اسٹیفن کونوے نے جنسی استحصال اور دیگر حفاظتی شکایات کی بنیاد پر شروع ہونے والی تحقیقات کے تناظر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ چرچ حکام کے مطابق بشپ کو اس وقت ایک سنگین سکیورٹی شکایت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف باقاعدہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ برطانوی مذہبی حلقوں میں بڑی بحث کا موضوع بن گیا ہے اور اس پر عوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بشپ اسٹیفن کونوے کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی نوعیت انتہائی سنجیدہ ہے، جس کے بعد کلیسا کے اعلیٰ حکام نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا۔ تحقیقاتی عمل کے دوران یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا یا کسی بھی قسم کے پیشہ ورانہ بدسلوکی کا ارتکاب کیا۔ اگرچہ تحقیقات ابھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوئی ہیں، تاہم دباؤ بڑھنے کی وجہ سے بشپ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے اور چرچ کے وقار کو بحال رکھا جا سکے۔
چرچ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آزاد تحقیقاتی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ادارے کا عزم ہے کہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے غلط رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر مذہبی اداروں میں اندرونی احتساب اور شفافیت کے فقدان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور عامتہ الناس کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات میں فوری اور کڑی سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔