World
گیمبیا میں سابق فوجی اہلکار ثنا منجانگ کا ٹرائل
گیمبیا میں سابق صدر یحییٰ جامع کے دور اقتدار کے دوران مبینہ طور پر ڈیتھ اسکواڈ کے رکن رہنے والے ثنا منجانگ کو فوجی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ ان پر 2017 میں سابق صدر کی بیس سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد فوج سے فرار ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔
گیمبیا میں سابق صدر یحییٰ جامع کے دور حکومت کے دوران مبینہ طور پر 'جنگل بوائز' نامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم رہنما سمجھے جانے والے ثنا منجانگ کو ایک بار پھر فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کو گیمبیا کی تاریخ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماضی کے سیاہ باب کو بند کرنے کی کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ثنا منجانگ پر بنیادی طور پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 2017 میں سابق صدر یحییٰ جامع کے بیس سالہ طویل اقتدار کے خاتمے کے فوراً بعد بغیر اجازت فوج چھوڑ دی تھی اور فرار ہو گئے تھے۔ یحییٰ جامع کے دور میں اس دستے پر سیاسی مخالفین، صحافیوں اور مبینہ باغیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور قتل میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ مقدمہ صرف فوج سے فرار ہونے کے الزامات کے تحت چلایا جا رہا ہے، تاہم متاثرین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کی امید لگائے بیٹھی ہیں کہ اس کارروائی کے دوران ماضی کے دیگر سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے راز بھی فاش ہوں گے۔ گیمبیا میں یحییٰ جامع کے زوال کے بعد سے انصاف کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی کثیر تعداد اس مقدمے کی کوریج کے لیے موجود تھی۔ گیمبیا کی حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ ماضی کے تمام مظالم کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لائے تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔